کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 151
بہت بہتر ہو)۔‘‘ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَنْہٰی أَنْ یُدْخَلَ مِنْ بَابِ النِّسَائِ۔[1] ’’سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عورتوں کے دروازے سے داخل ہونے سے منع کیا کرتے تھے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لِلنِّسَائِ وَسَطُ الطَّرِیقِ)) [2] ’’عورتوں کے لیے راستے کا درمیان نہیں ہے۔‘‘ یعنی عورتوں کو راستے کے ایک جانب ہو کر چلنا چاہیے، درمیانِ راہ میں چلنا ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ 6. میدانِ دعوت میں مرد وزن کا اختلاط نہ ہو: سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلے تو (دیکھا کہ) راستے میں عورتیں اور مرد اکٹھے چل رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عورتوں سے) فرمایا: ((اسْتَأْخِرْنَ، فَإِنَّہٗ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِیقَ عَلَیْکُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِیقِ)) ’’پیچھے پیچھے رہا کرو، تمہارے لیے مناسب نہیں کہ راستے کے عین درمیان میں چلو، بلکہ راستے کے اطراف میں چلا کرو۔‘‘ اس کے بعد عورت دِیوار کے ساتھ لگ کر چلا کرتی تھی، حتیٰ کہ اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ اٹک اٹک جاتا، اس لیے کہ وہ دیوار کے ساتھ لگ کر چلتی تھی۔‘‘[3] [1] سنن أبی داود: ۴۶۴. [2] صحیح الجامع: ۵۴۲۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۸۵۶. [3] سنن أبی داود: ۵۲۷۲۔ صحیح الجامع: ۸۵۶.