کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 149
3. دعوت کے لیے عورت بغیر پردے کے نہ نکلے: سیدہ اُمِ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحی میں عورتوں کو باہر نکالیں، دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو، لیکن حائضہ نماز سے دُور رہیں۔ وہ خیروبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لِتُلْبِسْہَا أُخْتُہَا مِنْ جِلْبَابِہَا)) [1] ’’اس کی (کوئی مسلمان) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔‘‘ 4. دعوت کے لیے عورت خوشبو لگائے بغیر نکلے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَطَیَّبَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ إِلَی الْمَسْجِدِ، لَمْ تُقْبَلْ لَہَا صَلَاۃٌ حَتَّی تَغْتَسِلَ)) [2] ’’جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کی طرف چلے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، جب تک غسل نہ کر لے۔‘‘ سیدہ زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیَّتُکُنَّ خَرَجَتْ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَلَا تَقْرَبَنَّ طِیبًا)) [3] ’’تم میں سے جو بھی عورت مسجد کی طرف نکلے وہ خوشبو کے بالکل بھی قریب نہ جائے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح مسلم: ۸۹۰. [2] سنن ابن ماجہ: ۴۰۰۲۔ صحیح الجامع : ۲۷۰۳. [3] سنن النسائی: ۵۱۳۱۔ صحیح الجامع: ۲۶۹۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۹۳.