کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 148
غلام میرے پاس بھیج دیا، وہ گھوڑے کے متعلق سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی، گویا انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔‘‘ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دے دی گئیں تو وہ اپنی کھجوریں کاٹنے کے لیے نکل گئی تو اسے ایک آدمی ملا جس نے اسے منع کیا۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو یہ بات بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اخْرُجِی فَجُدِّی نَخْلَکِ، لَعَلَّکِ أَنْ تَصَدَّقِی مِنْہُ أَوْ تَفْعَلِی خَیْرًا)) [1] ’’چلی جایا کرو اور اپنی کھجوریں کاٹا کرو، تم اس سے صدقہ یا کوئی خیر کا کام ہی کرو گی۔‘‘ ابراہیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ: أَذِنَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لِأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم فِی آخِرِ حَجَّۃٍ حَجَّہَا، فَبَعَثَ مَعَہُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ۔[2] ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو حج کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے ان کے ہمراہ عثمان بن عفان اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا تھا۔‘‘ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت ’’رُفقہ مامونہ‘‘ کے ساتھ سفر کرے تو پھر محرم کے بغیر سفر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔[3] رُفقہ مامونہ سے مراد یہ ہے کہ سفر کے کسی قافلے میں نیک عورتیں زیادہ ہوں اور ان میں سے کسی عورت کے محرم ساتھ ہوں۔ [1] سنن أبی داود: ۲۲۹۷. [2] صحیح البخاری: ۱۸۶۰. [3] بدایۃ المجتھد: ۲-۸۷.