کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 147
رُکُوبِکِ مَعَہٗ۔[1] ’’زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس پانی لانے والے ایک اونٹ اور ایک گھوڑے کے سوا رُوئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، الغرض کوئی چیز نہ تھی۔ میں ہی ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی اور پانی پلاتی تھی، نیز ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ میری ہمسائیاں انصاری عورتیں روٹیاں پکا دیتی تھیں۔ وہ بڑی اچھی اور باوفا خواتین تھیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، میں وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھا کر لاتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل کے فاصلے پر تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی جبکہ گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آپ کے ہمراہ قبیلہ انصار کے چند لوگ بھی تھے۔ آپ نے مجھے بلایا اور اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے ’’اخ اخ‘‘ کیا۔ آپ چاہتے تھے کہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ہمراہ چلنے میں شرم محسوس ہوئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا، کیونکہ زبیر رضی اللہ عنہ بہت ہی باغیرت انسان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ اس کے بعد میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو ان سے اس واقعے کا ذکر کیا کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تھی جبکہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں۔ آپ کے ہمراہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سوار کرنے کے لیے اپنا اونٹ بٹھایا لیکن مجھے شرم دامن گیر ہوئی اور آپ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ یہ سن کر زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا سر پر گٹھلیاں اٹھانا مجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ گراں تھا۔ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک [1] صحیح البخاری: ۵۲۲۴.