کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 143
خطرناک ہو۔‘‘ ٭…سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ فِی النِّسَائِ)) [1] ’’دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، یقینا بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی سے متعلق تھا۔‘‘ ٭…سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْمَرْأَۃَ تُقْبِلُ فِی صُورَۃِ شَیْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِی صُورَۃِ شَیْطَانٍ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فَلْیَأْتِ أَہْلَہٗ، فَإِنَّ ذَالِکَ یَرُدُّ مَا فِی نَفْسِہٖ))[2] ’’یقینا عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی واپس جاتی ہے، سو جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اس چاہیے کہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے، کیونکہ یہ اس کے دِل میں پیدا ہونے والے (برے خیالات) کو ختم کر دے گا۔‘‘ ٭…سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو وہ آپ کو اچھی لگی، آپ (اپنی زوجہ مطہرہ) سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور وہ خوشبو بنا رہی تھیں۔ ان کے پاس چند عورتیں تھیں، وہ ان سے الگ ہو گئیں، آپ نے اپنی حاجت پوری کی، پھر فرمایا: ((أَیُّمَا رَجُلٍ رَاٰی امْرَأَۃً تُعْجِبُہٗ فَلْیَقُمْ إِلٰی أَہْلِہٖ، فَإِنَّ مَعَہَا مِثْلَ الَّذِی مَعَہَا)) [3] [1] صحیح مسلم: ۲۷۴۲. [2] صحیح مسلم: ۱۴۰۳. [3] سنن الدارمی: ۲۲۶۱.