کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 142
عورت کے لیے دعوت کا دائرہ کاراور اس کی شروط عورت معاشرے کا ایسا رُکن ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ مکمل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو انسان کو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کر سکتا تھا، جیسے حضرت آدم علیہ السلام ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو بغیر باپ کے بھی پیدا کر سکتا تھا، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ماں اور باپ کے ذریعے پیدا کر کے یہ بتلایا ہے کہ یہ دونوں ہی اس کائنات کے اہم عنصر ہیں، کسی ایک سے کُلی طور پر مستغنی نہیں ہوا جا سکتا، لہٰذا دین کی تبلیغ میں بھی جب تک یہ دونوں شامل نہیں ہوں گے تب تک دین کی سربلندی نہیں ہو گی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا النِّسَاء شَقَائِقُ الرِّجَالِ)) [1] ’’عورتیں بھی مردوں ہی کی مانند ہیں۔‘‘ لہٰذا ذیل کی سطور میں ہم عورت کے لیے دعوتِ دین کا دائرہ کاراور اس کی شروط بیان کریں گے تاکہ وہ بھی اس مبارک مشن کا حصہ بن کر سرخروئی حاصل کر سکے۔ 1. عورت فتنے سے محفوظ ہو اور لوگ بھی اس کے فتنے سے محفوظ ہوں: ٭… سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا تَرَکْتُ بَعْدِی فِتْنَۃً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ)) [2] ’’میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے ایسا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا جو عورتوں سے زیادہ [1] سنن أبی داود: ۲۳۶۔ سنن الترمذی: ۱۱۳۔ سنن ابن ماجہ: ۶۱۲. [2] صحیح البخاری: ۵۰۹۶۔ صحیح مسلم:۶۸۸۰.