کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 141
بخش دے، بلکہ اسے اپنامطلوب ومقصودحاصل ہونے کے پُختہ عزم ویقین کے ساتھ دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی چیزبڑی نہیں ہے کہ جسے وہ عطاکرے۔‘‘ اپنے مسلمان بھائی کے حق میں بھی دُعاگو رہنا چاہیے، اس سے جہاں اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت سنوارے گا وہاں یہ اپنی دعا قبول کروانے کا بھی بہترین ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ((دَعْوَۃُ الْمَرْء ِ الْمُسْلِمِ لِأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ مُسْتَجَابَۃٌ، عِنْدَ رَأْسِہٖ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ، کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِخَیْرٍ، قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِہٖ: آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ)) [1] ’’ایک مسلمان کی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے حق میں کی جانے والی دعا قبول کی جاتی ہے، اس کے سر پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، وہ بندہ جب بھی اپنے بھائی کے حق میں خیروبھلائی کی دعاکرتاہے تو وہ مقرر کردہ فرشتہ آمین کہتا ہے اور ساتھ اسے بھی دعا دیتا ہے کہ جوکچھ تُونے اپنے بھائی کے لیے مانگا ہے وہی کچھ اللہ تعالیٰ تجھے بھی نوازے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۷۳۳.