کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 138
غَفَرْتُ لَکَ عَلٰی مَا کَانَ فِیکَ وَلَا أُبَالِی، یَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُکَ عَنَانَ السَّمَاء ِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِی غَفَرْتُ لَکَ، وَلَا أُبَالِی، یَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ لَوْ أَتَیْتَنِی بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَایَا ثُمَّ لَقِیتَنِی لَا تُشْرِکُ بِی شَیْئًا لَأَتَیْتُکَ بِقُرَابِہَا مَغْفِرَۃً)) [1] ’’اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امیدیں وابستہ رکھے گا، تیرے اعمال جیسے بھی ہوئے میں تجھے معاف کرتا رہوں گا اورمجھے کوئی پرواہ نہیں، اے ابنِ آدم! اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندی کوپہنچ جائیں، پھرتُومجھ سے بخشش مانگے تومیں (پھربھی) تجھے بخش دوں گا، اے ابنِ آدم! اگرتُوزمین بھرکربھی گناہ لے کرآئے لیکن تونے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایاہوتومیں تیرے گناہوں کی مقداربرابرہی تجھے مغفرت سے نوازدوں گا۔‘‘ سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُو اللّٰہَ بِدَعْوَۃٍ لَیسَ فِیھَا إِثْمٌ وَلَا قَطِیعَۃُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ بِھَا إِحْدٰی ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَہٗ دَعْوَتُہٗ، وَإِمَّا أَنْ یَدَّخِرَھَا لَہٗ فِی الْآخِرَۃِ، وَإِمَّا أَنْ یَصْرِفَ عَنْہُ مِنَ السُّوئِ مِثْلَہَا، قَالُوا: إِذًا نُکْثِرُ، قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْثَرُ)) [2] ’’جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ کی کوئی چیز یا قطع رحمی نہ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس دعا کی وجہ سے تین صورتوں میں سے ایک چیز عطا فرما دیتا ہے: یا تو جلد ہی اس کی وہ دعا قبول کر لیتا ہے، یا اسے آخرت میں ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس کے مثل کوئی برائی (تکلیف و مصیبت اور پریشانی) اس سے دُور فرما دیتا ہے۔‘‘ یہ سن کر لوگوں نے کہا: تب تو ہم بہت [1] سنن الترمذی:۳۵۴۰. [2] سنن الترمذی: ۳۵۷۳۔ صحیح الترغیب والترہیب : ۱۶۳۳.