کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 137
14. دُعا کا التزام: داعی کو رب تعالیٰ کے سامنے دست بہ دُعا رہنا چاہیے۔ دعوتی میدان میں عملی کوشش کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح، اپنی محنت کی قبولیت اور اس مشن کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی کی جو بھی دعا کی جائے وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴾ [المؤمن :۶۰] ’’اور تمہارے پروردگار کا یہ فرمان ہے کہ تم مجھ سے دعاکرومیں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقینا جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ بہت جلد ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ [البقرۃ : ۱۸۶] ’’(اے پیغمبر!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں (تو انہیں بتلائیے کہ) یقینا میں تو قریب ہوں (اور) دعا کرنے والا جب بھی مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہوں۔‘‘ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ شَیْئٌ أَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی مِنَ الدُّعَائِ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں دعاسے بڑھ کرکوئی بھی عمل قابلِ عزت نہیں ہے۔‘‘ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: یَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ مَا دَعَوْتَنِی وَرَجَوْتَنِی [1] سنن الترمذی:۳۳۷۰۔سنن ابن ماجہ: ۳۸۲۹.