کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 136
٭ صبح کی نماز سے اشراق تک مسلسل ذِکر کرنے سے، یہ کلمات پڑھنا (میزانِ عمل میں) زیادہ وزنی ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ (3مرتبہ)۔ [1] ’’اللہ نہایت پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اپنی مخلوق کی گنتی کے برابر اور اپنی ذات کی رضاکے برابر اور اپنے عرش کے وزن کے برابر اور اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر۔‘‘ ٭ جو شخص صبح کے وقت اور پھر شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے، پھر اگر اسی دِن یا اسی رات اس کو موت آ جاتی ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّی لاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِی وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوئُ بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ۔ [2] ’’اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرابندہ ہوں، تیرے عہد پر ہوں اور تیرے وعدے پرہوں جتنی مجھ میں استطاعت ہے، میں تیری پناہ میں آتاہوں اس برائی سے جو میں نے کی، میں تیرے لیے تیری ان نعمتوں کااقرارکرتا ہوں جوتونے مجھ پرانعام فرمائی ہیں اورمیں اپنے گناہ کااعتراف کرتا ہوں، سوتومجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۷۲۶. [2] صحیح البخاری: ۵۹۴۷.