کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 121
((أَیُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِیہِ یَا کَافِرُ، فَقَدْ بَائَ بِہَا أَحَدُہُمَا)) [1] ’’جس بھی شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہا، تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔‘‘ یعنی اگر وہ شخص، جس کو کافر کہا گیا ہے، درحقیقت کافر نہ ہوا تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس شدید وعید کا مورَد بننے سے بچیں اور کفر کے فتووں سے گریز کریں۔ اسی طرح سیدنا جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللّٰہِ لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لِفُلَانٍ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِی یَتَأَلّٰی عَلَیَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ، فَإِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَکَ)) [2] ’’ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں کو تو بخش دیا ہے لیکن (ایسا کہنے والے!) میں نے تیرے عمل ضائع کر دِیے ہیں۔‘‘ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((کَانَ رَجُلَانِ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ مُتَوَاخِیَیْنِ، فَکَانَ أَحَدُہُمَا یُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَہِدٌ فِی الْعِبَادَۃِ، فَکَانَ لَا یَزَالُ الْمُجْتَہِدُ یَرَی الْآخَرَ عَلَی الذَّنْبِ فَیَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَہٗ یَوْمًا عَلٰی ذَنْبٍ فَقَالَ لَہٗ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِی وَرَبِّی أَبُعِثْتَ عَلَیَّ رَقِیبًا؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ، أَوْ لَا یُدْخِلُکَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَہُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِینَ فَقَالَ لِہٰذَا الْمُجْتَہِدِ: أَکُنْتَ بِی عَالِمًا، أَوْ کُنْتَ عَلٰی مَا فِی یَدِی قَادِرًا؟ وَقَالَ [1] صحیح البخاری: ۶۱۰۴. [2] صحیح مسلم: ۲۶۲۱.