کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 120
((اَلتُّؤَدۃُ فِی کُلِّ شَیْئٍ إِلاَّ فِی عَمَلِ الآخِرَۃِ)) [1] ’’آخرت (یعنی نیکی) کے کام کے سوا کسی بھی کام میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ ان تمام فرامین سے یہ بات احاطہ علم میں آتی ہے کہ داعی کو نہ تو جلدبازی سے کام لینا چاہیے اور نہ ہی بلاتحقیق کوئی اقدام کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کا جذبہ درست ہونے کے باوجود بھی دعوت کے منفی اثرات مرتب ہو جائیں اور مخاطب اپنی اصلاح کے بجائے متنفر ہو جائے۔ 12. کفر اور معاف نہ کیے جانے کا فتویٰ لگانے سے اجتناب: داعی میں یہ خصلت ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں پر کفر، نفاق اور ارتداد کے فتوے لگاتا پھرے۔ کسی کے باطن کا حال فقط اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ کے ذِمے بس تبلیغ کرنا ہے، دعوت دینا ہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پہنچانا ہے، لوگوں کے اُخروی ٹھکانے کا خود سے تعین کرنا نہیں ہے، لہٰذا اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے صرف تبلیغ کو ہی ملحوظ رکھیں، نفرت اور تعصب کا رویہ اپناتے ہوئے کفر و ارتداد کے فتوے مت لگائیں۔ یاد رکھیں! کفر کا مطلب ہے کہ آپ اس کے خون کو حلال قرار دے رہے ہیں، منافق کہنے کا مطلب ہے کہ آپ اس کے ایمان پر شک کر رہے ہیں اور مرتد کہنے کا مطلب ہے کہ آپ اسے دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہیں، اور کسی کو یہ کہنا کہ اللہ تجھے معاف نہیں فرمائے گا، اس کا مطلب ہے کہ آپ اللہ کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اس میں سے کسی بھی فتوے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ لہٰذا اس رویے سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ ورنہ اس بارے میں بہت سخت وعید وارد ہوئی ہے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] سنن أبی داود: ۴۸۱۰۔ صحیح الجامع: ۳۰۰۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۷۹۴.