کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 119
کی لعنت ہے۔‘‘ 11. معاملے کو اچھی طرح سمجھنا اور جلدبازی سے بچنا: لوگوں کی اصلاح اور تربیت تبھی ممکن ہو سکتی ہے جب آپ ان کے احوال و اعمال کو اچھی طرح سمجھ سکیں، پرکھ سکیں اور پھر تحمل کے ساتھ ان کی اصلاح کر سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ محض گمان کی بناء پر، یا صرف کسی کے بتلانے پر بلاتحقیق اور جلدبازی کرتے ہوئے کسی پر خطاکار اور گناہ گار ہونے کا فتویٰ لگا دیا جائے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴾ [الحجرات : ۶] ’’اے ایمان والے لوگو!اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو‘ ایسانہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کوایذاء پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْہَدْیَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وَعِشْرِینَ جُزْئً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ)) [1] ’’یقینا نیک چلن، عمدہ کردار اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔‘‘ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((التَّأَنِّی مِنَ اللّٰہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ)) [2] ’’سوچ و بچاراللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جلدبازی شیطان کی طرف سے۔‘‘ اسی طرح سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] سنن أبی داود: ۴۷۷۶۔ مسند أحمد: ۲۶۹۸۔ صحیح الجامع: ۱۹۹۲. [2] صحیح الجامع: ۳۰۱۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۷۹۵.