کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 118
کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دُور فرما دے گا اور جو شخص مسلمان (کے عیبوں) کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ روزِقیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ)) [1] ’’جس نے مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ یُدْنِی الْمُؤْمِنَ فَیَضَعُ عَلَیْہِ کَنَفَہٗ وَیَسْتُرُہٗ فَیَقُوْلُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ أَیْ رَبِّ، حَتّٰی إِذَا أَقَرَّہٗ بِذُنُوْبِہٖ وَرَأیٰ فِی نَفْسِہٖ أَنَّہٗ ھَلَکَ، قَالَ سَتَرْتُہَا عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَأَنَا أَغْفِرُہَا لَکَ الْیَوْمَ، فَیُعْطٰی کِتَابُ حَسَنَاتِہٖ، وَأَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَیَقُوْلُ الْأَشْہَادُ ہٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ أَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ)) [2] ’’اللہ تعالیٰ (روزِقیامت) مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس پر اپنا پردۂ عزت ڈال کر اسے چھپا لے گا، پھر فرمائے گا: تجھے اپنا فلاں گناہ معلوم ہے؟ تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ تو وہ کہے گا: جی ہاں، یارب! مجھے معلوم ہے، حتیٰ کہ اس سے تمام گناہوں کا اقرار کرا لے گا، اور وہ شخص اپنے دِل میں خیال کرے گا کہ وہ اب تباہ ہو چکا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ پر دنیا میں پردہ ڈالا، آج تیرے لیے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ پھر نیکیوں کی کتاب اس کے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ لیکن کافر اور منافق کے متعلق گواہ برملا بولیں گے: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ [1] صحیح مسلم: ۲۶۹۹. [2] صحیح البخاری: ۲۴۴۱.