کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 117
جب بچے رات کو کھانا مانگیں، تو تم انہیں سلا دینا، تم چراغ بجھا دینا، ہم صبر کر لیں گے۔ اس نے اسی طرح کیا۔ دوسرے دن وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ کو فلاں مرد اور فلاں عورت بہت پسند آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ ’’اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں، گو خود کتنی ہی سخت حاجت میں ہوں۔‘‘ 10. جاسوسی اور پوشیدہ امور کی ٹوہ لگانے سے اجتناب: داعی کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے پوشیدہ عیوب اور مخفی کوتاہیوں کی ٹوہ لگاتا پھرے، بلکہ وہ صرف ان ہی امور کی اصلاح کا مکلف ہے جو واضح ہوں اور اس پر ان ہی کوتاہیوں کی اصلاح لازم آتی ہے جو ظاہر طور پر لوگوں میں موجود ہوں۔ لہٰذا اصلاح کے لیے لوگوں کے پوشیدہ عیوب کی ٹوہ لگانا ہرگز جائز نہیں ہے بلکہ یہ بجائے خود ایک مذموم اور ممنوع عمل ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یُسْلِمُہٗ، وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ حَاجَتِہٖ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ بِہَا کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَتَرَمُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) [1] ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے تنہا چھوڑتا ہے، جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگ جاتا ہے، جو شخص کسی مسلمان سے تکلیف کا خاتمہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں روزِقیامت اس سے قیامت [1] صحیح البخاری:۲۴۴۲۔ صحیح مسلم:۶۵۲۱.