کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 115
’’جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ خاموش ہو جائے۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلِّمُوا، وَیَسِّرُوا، وَلا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ)) [1] ’’(لوگوں کو) تعلیم دو، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا مت کرو، جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ، جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ، جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔‘‘ (4) بیٹھ جانا یا لیٹ جانا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ وَہُوَ قَائِمٌ فَلْیَجْلِسْ، فَإِنْ ذَہَبَ عَنْہُ الْغَضَبُ، وَإِلَّا فَلْیَضْطَجِعْ)) [2] ’’جب تم میں سے کسی شخص کوغصہ آئے اوروہ کھڑاہوتواسے بیٹھ جاناچاہیے، سواگراس سے غصہ چلاجائے تو (ٹھیک ہے) اور اگر پھر بھی ختم نہ ہو تو لیٹ جائے۔‘‘ 9. ایثار و قربانی کا جذبہ: داعی میں ایثار اور قربانی کا جذبہ ہونا چاہیے، اسے دوسروں کو خود پر ترجیح دینی چاہیے، تاکہ مخاطبین اس کے اس جذبے سے متاثر ہو کر اس کی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ))[3] ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے [1] مسند أحمد: ۲۵۵۶. [2] سنن أبی داود: ۴۷۸۲. [3] صحیح البخاری: ۱۳۔ صحیح مسلم: ۱۶۸.