کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 114
’’جس نے اپنے غصے پرقابوپایا؛ حالانکہ وہ غصہ نکالنے پرقادرہواللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا، یہاں تک کہ اسے اختیاردے گاجوبھی حُورچاہے لے لے۔‘‘ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ جُرْعَۃٍ أَعْظَمُ أَجْرًا عِنْدَ اللّٰہِ، مِنْ جُرْعَۃِ غَیْظٍ کَظَمَہَا عَبْدٌ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ)) [1] ’’کوئی بھی گھُونٹ ایسانہیں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کے لحاظ سے، غصے کے اس گھونٹ سے بڑا ہو جسے بندہ رضائے الٰہی کی خاطر پیتا ہے۔‘‘ (2) شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ میں آنا: سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ دو آدمی آپس میں جھگڑنے لگے۔ ایک کا غصے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی رگیں پھولنے لگیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا ذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، ذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ)) [2] ’’یقینا میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ اگریہ اسے پڑھ لے تواس کا غصہ جاتا رہے گا، اگر یہ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا۔‘‘ (3) خاموشی اختیار کرنا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْکُتْ)) [3] [1] سنن ابن ماجہ: ۴۱۸۹. [2] صحیح البخاری: ۳۲۸۲۔ صحیح مسلم: ۲۶۱۰. [3] صحیح الجامع: ۶۹۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۳۷۵.