کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 113
کہ وہ جذبات میں بہہ کر بے عقلی کا ثبوت دیتا ہے یا جذبات کو کنٹرول کر کے عقل مندی کا ثبوت دیتا ہے اور اصل بہادری بھی یہی ہے کہ غصے کو کنٹرول کیا جائے، کیونکہ غصہ نکال تو ہرکوئی سکتا ہے مگر کنٹرول صرف وہی کر سکتا ہے جو شعوری طور پر یہ جانتا ہو کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، لہٰذا میں اس کو خود پر حاوی نہیں ہونے دوں گا، اور دعوتِ دین کے میدان میں تو بالکل بھی شیطان کو حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے، کیونکہ وہ تو چاہتا ہی ہے کہ آپ اس مشن میں ناکام ہوں، اسی لیے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے آزماتا ہے، لیکن ایک داعی کو غصہ کنٹرول کرتے ہوئے اور لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے شیطان کو شکست دے دینی چاہیے۔ 8.غصے کا علاج: غصہ ختم کرنے کے لیے قرآن و سنت سے ماخوذ چار طرح کے علاج ذکر کیے جا رہے ہیں، جنہیں اپنا کر اس شیطانی حملے سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ (1) معاف کر دینا: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾ [آل عمران : ۱۳۴] ’’اور غصے کو پی جانے والے اورلوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں‘ یقینا اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کوپسندفرماتا ہے۔‘‘ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ کَظَمَ غَیْظاً وَہُوَ یَقْدِرُ عَلٰی أَنْ یُنْفِذَہٗ، دَعَاُہ اللّٰهُ عَلٰی رُؤْوسِ الْخَلاَئِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُخَیِّرہٗ فِی أَیِّ الْحُورِ شَائَ)) [1] [1] سنن الترمذی: ۲۴۹۳.