کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 111
تھے: بلاشبہ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔‘‘ ہمیں یہ بات لازماً پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اچھا اخلاق صرف دعوتی مشن کی کامیابی کے لیے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ رضائے الٰہی اور محبتِ الٰہی کے حصول کے لیے بھی لازمی ہے، کیونکہ بداخلاق شخص کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔ جیسا کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَثْقَلُ شَیْئٍ فِیْ مِیْزَانِ الْمُؤْمِنِ خُلُقٌ حَسَنٌ وَإِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ الْبَذِیئَ)) [1] ’’مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز (نیکی) حسن خلق ہوگی اور اللہ تعالیٰ بدکار ، فحش گو اور بد زبان کو سخت ناپسند کرتا ہے۔‘‘ 7. غصے اور جھگڑے سے اجتناب: دین کے داعی کو غصہ کرنے والا اور جھگڑنے والا تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ غصہ کرنا یا جھگڑا کرنا گویا اس مشن کی اہانت ہے، یہ تو رب تعالیٰ کی طرف بلانے اور اس کے دین کی بات پہنچانے کا مشن ہے، اس میں تو مکمل تحمل، بردباری، نرمی اور خوش اسلوبی کا پہلو اپنانا چاہیے اور مخاطب کی طرف سے چاہے جیسے بھی سلوک کا سامنا ہو، اسے خوش ہو کر برداشت کرنا چاہیے بلکہ جواب میں ایسا اچھا اور عمدہ رویہ اپنانا چاہیے کہ اس کو ندامت ہو اور وہ آپ سے متاثر ہو کر آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہو جائے۔ غصہ نہ کرنے والوں کی فضیلت کے بارے میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾ [آل عمران: ۱۳۳، ۱۳۴] [1] صحیح الجامع: ۱۳۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۸۷۶.