کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 110
لہولہان کر دیا، اور وہ اپنا خون صاف کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِقَومِی فَإِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ)) [1] ’’اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ 6. حسن اخلاق: کوئی بھی قابل قدر کام اچھا اخلاق اپنائے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا، کیونکہ بداخلاقی، بے ادبی، نامناسب زبان کا استعمال اور نازیبا رویہ اپنانے سے وہ کام یا تو ادھورا ہی رہ جاتا ہے اور اگر مکمل ہو بھی جائے تو اس کے وہ نتائج برآمد نہیں ہوتے جو حسنِ اخلاق اپنانے سے ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیگر امور کے ساتھ ساتھ دعوتی میدان میں بالخصوص حسنِ اخلاق کا کامل طور پر مظاہرہ فرمایا کرتے تھے، جس کی شہادت خود اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کا تذکرہ کرتے ہوئے دی ہے کہ: ﴿ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴾ [القلم : ۴] ’’یقینا آپ بلند اخلاق پر فائز ہیں۔‘‘ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔‘‘ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَکَانَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ خِیَارِکُمْ أَحْسَنَکُمْ أَخْلاَقًا)) [3] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو فحش گو تھے اور نہ ہی بدزبان تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے [1] صحیح البخاری: ۳۴۷۷. [2] صحیح البخاری: ۶۲۰۳۔ صحیح مسلم: ۶۵۹. [3] صحیح البخاری: ۳۵۵۹.