کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 108
مِنْ خَطَایَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) [1] ’’جس بھی مومن کو دنیا میں کوئی کانٹا ہی چبھ جائے یا اس سے بھی چھوٹی کوئی تکلیف آئے اور وہ اس پر اَجر کی اُمید رکھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں روزِ قیامت اس کی خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔‘‘ دعوتی مشن میں مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و بھلائی کے حصول کی دلیل ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیرًا یُصِبْ مِنْہُ)) [2] ’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے مصیبت میں مبتلا کرلیتا ہے۔‘‘ تکالیف ومصائب جھیلنا اور انہیں برداشت کرنا انبیاء کرام علیہما السلام کی سنت مبارکہ ہے اور سب سے زیادہ سخت آزمائشیں اور آلام و مصائب انبیاء پر ہی آئے ہیں۔ جیسا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سخت ترین آزمائش کے شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الْأَنْبِیَائُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِینِہٖ، فَإِنْ کَانَ دِینُہُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہٖ رِقَّۃٌ ابْتُلِیَ عَلٰی حَسَبِ ذَالِکَ، فَمَا یَبْرَحُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی یَتْرُکَہٗ یَمْشِی عَلَی الْأَرْضِ مَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ)) [3] ’’انبیاء، پھر جو ان کے بعد سب سے افضل ہیں، پھر جو ان کے بعد درجہ و مقام رکھتے ہیں۔ آدمی کو اس کے دِین کے حساب سے آزمایا جاتا ہے، اگر تو وہ اپنے دِین میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت کی جاتی ہے اور اگر وہ اپنے دِین [1] الأدب المفرد للبخاری: ۵۰۷. [2] صحیح البخاری: ۵۶۴۵. [3] سنن الترمذی: ۲۳۹۸۔ سنن ابن ماجہ: ۴۰۲۳۔ سنن الدارمی: ۲۷۸۳.