کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 106
’’اے عائشہ! نرمی اپناؤ، کیونکہ جس بھی چیزمیں نرمی آجاتی ہے اسے خوبصورت بنادیتی ہے اورجس چیزسے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ رَفِیقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ، وَیُعْطِی عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا یُعْطِی عَلَی الْعُنْفِ، وَمَا لَا یُعْطِی عَلٰی مَا سِوَاہُ)) [1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ بہت نرم ہے اور نرمی ہی کو پسند فرماتا ہے۔ وہ نرمی اپنانے پر وہ کچھ عطا کر دیتا ہے جو وہ سختی اپنانے پر اور اس کے سوا کسی اور بات پر نہیں دیتا۔‘‘ واضح رہے کہ نرمی کا یہ حکم اپنی ذات کے معاملے میں ہے، یعنی جہاں ذات سے متعلقہ کوئی معاملہ درپیش ہوتا ہے، کوئی سخت رویہ اپناتا ہے یا نامناسب زبان استعمال کرتا ہے یا بے ادبی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہاں نرمی سے جواب دینا چاہیے اور برداشت سے کام لینا چاہیے لیکن جہاں اصول کی مخالفت ہو گی وہاں آپ کو بتانا پڑے گا، وہ سختی نہیں ہو گی بلکہ نرمی ہی ہو گی۔ یعنی جہاں آپ نے حجت پوری کی ہے اور ایک نہیں بلکہ بار بار دین کا حکم بتلایا ہے لیکن پھر بھی کوئی شخص علم ہونے کے باوجود غلطی اور گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کو شرعی مخالفت کی سنگینی کا احساس دِلانے کے لیے سختی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا غلام ان کے لیے چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا۔ اس لیے کہ غلام ایک عرصے سے ان کی خدمت میں رہ رہا تھا اور اسے اچھی طرح معلوم بھی تھا کہ اسلام نے سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع کیا ہے، پھر بھی ایک حرام عمل کا ارتکاب کیا، تو اس کو اس معاملے کی شدت کا احساس دِلانے کے لیے آپ نے یہ رویہ اختیار کیا۔ البتہ لعن و طعن نہیں کرنی چاہیے، تذلیل نہیں کرنی چاہیے اور عار نہیں دِلانا چاہیے بلکہ مقصود و مطلوب فقط اصلاح اور تربیت ہی ہونا چاہیے۔ [1] صحیح مسلم: ۲۵۹۳.