کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 104
بیان کرتی ہیں کہ: أَنَّ النَّبِیَّ کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاہُ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ لَہٗ: لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: ((أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَکُوْنَ عَبْدًا شُکُوْرًا)) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر قیام کیا کرتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پھٹ جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سبھی گناہ بخش دیے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟‘‘ 4. نرمی، بُردباری اور درگزر: دعوت کا مشن اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس میں اسلوب نرم رکھا جائے۔ دورانِ دعوت کیسی بھی کیفیت اور صورتِ حال کا سامنا ہو جائے، خوش اخلاقی، نرمی اور ادب و احترام کا پہلو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ داعی کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر تین بہت ہی پیاری نصیحتیں فرمائی ہیں کہ: ﴿ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴾ [النحل : ۱۲۵] ’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے‘ یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتاہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں سے بھی بخوبی واقف ہے۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي [1] صحیح البخاری: ۴۸۳۷۔ صحیح مسلم: ۷۰۵۷.