کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 102
بیٹھے) خبردار! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، خبردار! بلاشبہ اللہ کی چراگاہ اس کے حرام کردہ امور ہیں، خبردار! یقینا جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست رہتا ہے تو سارا جسم ہی درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم ہی بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ (گوشت کا ٹکڑا) دِل ہے۔‘‘ ٭…سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دَعْ مَا یَرِیبُکَ إِلٰی مَا لَا یَرِیبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِینَۃٌ، وَإِنَّ الکَذِبَ رِیبَۃٌ)) [1] ’’شک والی چیز کو چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جس میں شک نہ ہو، یقینا سچ اطمینان کا باعث ہوتا ہے جبکہ جھوٹ شک کا باعث بنتا ہے۔‘‘ 3 عمل: علم تب ہی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور دعوتی مشن تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب داعی خود عمل کا پیکر بنتا ہے۔ جو گفتار کا تو غازی ہو لیکن کردار سے عاری ہو، اس کی نہ صرف گفتگو اور وعظ بے اثر رہتا ہے بلکہ اس کی ساری محنت رائیگاں ہو جاتی ہے اور اُلٹا اس کے لیے وبال بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قول و عمل میں تضاد رکھنے والوں کو سخت سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴾ [الصف: ۲، ۳] ’’اے لوگو جوایمان لائے ہو!تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے؟اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم نہیں کرتے ہو۔‘‘ [1] سنن الترمذی: ۲۵۱۸۔ سنن النسائی: ۵۷۱۴.