کتاب: تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی - صفحہ 35
پھیرنے کے سامان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ دار الحدیث رحمانیہ مرحوم کی تاریخ کے یہ بکھرے ہوئے اوراق اپنے اندر عبرت و موعظت کا بڑا سامان لیے ہوئے ہیں : ﴿لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ [ھود: ۱۱۱] لیکن اولو الالباب ہی کی تلاش ہے، کیوں کہ عبرت آموز تاریخ و واقعات سے مستفید ہونے کی سعادت انھیں کے حصے میں آتی ہے۔ دار الحدیث رحمانیہ کی تاریخ کے ان پریشان اوراق کو سمیٹنے کے بعد ذہن کے پردے پر بار بار یہ سوال گردش کررہا ہے کہ کیا تاریخ اپنے آپ کو دوہرا نہیں سکتی؟ کیا اس جیسے مثالی ادارے کا قیام دوبارہ ممکن نہیں ؟ اس سوال کے اثبات یا نفی میں جواب کا دارو مدار بڑی حد تک رحمانیہ کے باشعور ومخلص منتظمین و مدرسین جیسے حضرات کے امکانی وجود کے اثبات ونفی پر ہے۔ بھلا یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ روے زمین شیخ عطاء الرحمن جیسے نیک دل، فیاض اور علم دوست مہتمم سے خالی ہوچکی ہے یا مولانا نذیر احمد رحمانی اور مولانا شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی جیسے مخلص، بے لوث معلم و مربی کو دوبارہ نہیں جَن سکتی یا اس جیسے ادارے کی تحریک و ترغیب کے لیے مولاناعبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہم اللہ جیسے بابصیرت، دور اندیش اور جوہر شناس قائدین دوبارہ نہیں پیدا ہوں گے، جو شیخ عبد الرحمن و شیخ عطاء الرحمن جیسے زندہ دل اور دین کی خدمت کے لیے جذبہ صادق رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکالیں اور جن کے ادنیٰ اشاروں پر وہ سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی