کتاب: تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی - صفحہ 29
مہتمم چودھری محمد یاسین ظفر کی تحویل میں ہوں گے۔اگر میرے پاس ہوتے تو میں انھیں بھی کتاب کے صفحات کی زینت بنا دیتا۔ ان دونوں کتابوں کی پروف ریڈنگ کا مرحلہ بھی بہت مشکل تھا جو مجھے تین مرتبہ طے کرنا پڑا۔ (جامعہ سلفیہ کے موجودہ دور کے اساتذہ کرام کے تراجم میری زیرِ طبع کتاب ’’چمنستانِ حدیث‘‘ میں بیان کر دیے گئے ہیں ) ’’برصغیر میں اہلِ حدیث کی سرگزشت‘‘ اور ’’خطباتِ استقبالیہ و صدارت‘‘ دونوں کتابیں مجموعی طور پر سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں اور مکتبہ سلفیہ (شیش محل روڈ، لاہور) کی طرف سے نہایت خوب صورتی سے معرضِ اشاعت میں لائی گئی ہیں ۔ مجھے ان کتابوں کی اشاعت سے انتہائی مسرت ہوئی، اس لیے کہ ان میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد اور برصغیر کے قبل از تقسیم ملک اور بعد از تقسیم ملک کے مدارس کی اور جماعتی تنظیم کی تفصیل آگئی ہے اورمیں نے جو محنت کی بحمداللہ اس کا ثمر مجھے مل گیا ہے۔ میری متعدد کتابیں ہندوستان کے بعض ناشروں نے شائع کر دی ہیں اور میرے کہے بغیر ایک کتاب کا ہندی زبان میں ترجمہ ہوگیا ہے۔ بعض کتابوں کے بعض حصوں کے انگریزی ترجمے ہوگئے ہیں ، جو چھپ بھی گئے ہیں اور مجھے مل بھی گئے ہیں ۔ عربی ترجمہ بھی ایک کتاب کا ہوگیا ہے۔ میری ہندوستانی ناشروں سے درخواست ہے کہ وہ یہ دونوں اردو کتابیں (خطباتِ استقبالیہ و صدارت اور برصغیر میں اہلِ حدیث کی سرگزشت) بھی چھاپ دیں ۔ ان کتابوں ، بالخصوص موخر الذکر کتاب میں ہندوستان کے علماے اہلِ حدیث کی مختلف علمی سرگرمیوں کا تذکرہ خاصی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ میں نے بغیر کسی لالچ اور طمع کے ہمیشہ جماعت اور جامعہ سلفیہ کے خادم کی حیثیت اختیار کیے رکھی ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر میرے مرحوم دوست حمید اختر نے جو