کتاب: تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی - صفحہ 28
اب تک اس طرف دھیان نہیں کیا اور اپنی تاریخ اور اپنے اسلاف کی خالص دینی اور جماعتی کاوشوں کو محفوظ کرنا ضروری نہیں سمجھا، آیندہ وہ اسے کیونکر لائقِ اعتنا گردانیں گے؟ چنانچہ ذہنی اور مالی تکلیف کے باوجود میں نے کام جاری رکھا اور گرتے پڑتے ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو اﷲ کی مہربانی سے خطبات کا کام مکمل ہوگیا۔ یہ کتاب ۳۶۸ صفحات پر محیط ہے۔
اس سے چار پانچ مہینے بعد ۱۶؍ فروری ۲۰۱۰ء کو ’’برصغیر میں اہلِ حدیث کی سرگزشت‘‘ بھی تکمیل کو پہنچ گئی۔ اس میں آل انڈیا اہلِ حدیث کانفرنس کے قیام اور اس کی چوبیس کانفرنسوں کا تاریخ وار تذکرہ بھی آگیا اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی مکمل تاریخ بھی مرقوم ہوگئی۔ دونوں ملکوں کے ان بہت سے مدارس کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے، جو اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے اور بعد میں معرضِ وجود میں آئے۔ نیز یہ بھی بتا دیا گیا کہ تقسیم کے زمانے میں مشرقی پنجاب میں صرف اہلِ حدیث کے تیس (۳۰) مدرسے ختم ہوئے اور تیرہ علماے کرام شہید ہوئے۔یہ کتاب ۳۴۴ صفحات میں پھیلی ہوئی ہے۔
فیصل آباد کی جامعہ سلفیہ کے شروع سے لے کر اب تک کے تمام پہلوؤں کا اس میں احاطہ کر لیا گیا ہے۔ حجرِ اساسی یا سنگِ بنیاد رکھنے والے بزرگوں کے تراجم، ابتداے اجرا سے عہدِ موجود تک کے تمام شیوخ الحدیث، ناظمینِ تعلیم، مختلف اوقات کے مشہور مدرسین، اصحابِ اہتمام، لائبریری اور لائبریرین، جامعہ کے معاونین، جامعہ کا نصابِ تعلیم، جامعہ کے سلسلے میں مولانا عبدالواحدمرحوم اور مولانا عبیداﷲ احرارمرحوم کی خدمات۔ غرض جامعہ کے متعلق ہر اہم بات کا کتاب میں اندراج ہوگیا ہے۔
البتہ ان غیر ملکی مہمانانِ گرامی کے تاثرات اس میں درج نہیں ہوسکے، جو مختلف اوقات میں جامعہ میں تشریف لائے۔ یہ تاثرات ہمارے دوست جامعہ کے