کتاب: تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی - صفحہ 27
میں پندرہ سال سے سوچ رہا تھا کہ دو کتابیں لکھی جائیں ۔ ایک کتاب میں برصغیر کی جماعت اہلِ حدیث کی تنظیم و تدریس کی سرگزشت بیان کی جائے۔ دوسری کتاب ان استقبالیہ اور صدارتی خطبات پر مشتمل ہو، جو مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی کانفرنسوں میں ان کے قابلِ احترام صدور نے تحریری صورت میں ارشاد فرمائے، لیکن دیگر تصنیفی مصروفیات کی بنا پر یہ کام التوا کی نذر ہوتا رہا۔ پھر ۲۰۰۸ء میں مَیں نے عزم کر لیا کہ یہ کتابیں بہر صورت لکھنی چاہییں ۔ یہ دونوں کتابیں میں اپنی یادداشت اور اخبار ’’الاعتصام‘‘ میں شائع شدہ مواد کے حوالے سے لکھنے کا خواہاں تھا، چنانچہ اﷲ کا نام لے کر ۲۰۰۸ء میں کام شروع کر دیا گیا، لیکن آج سے ساٹھ سال قبل لیتھو کی چھپائی چلتی تھی، جو مرورِ زمانہ سے مدھم پڑ گئی تھی اور اخباری کاغذ بوسیدہ ہوگیا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹ بھی گیا تھا۔ اسے پڑھنا اور کمپوز کرنا بہت مشکل تھا۔
میں نے پہلے مرحلے میں خطبات کی کمپوزنگ شروع کروانی چاہی، جو مولانا محمد حنیف ندوی کی پریس کانفرنس سمیت تعداد میں چوبیس تھے۔ کمپوزر نے مسودہ دیکھا تو یہ کہہ کر کمپوز کرنے سے انکار کر دیا کہ نہ وہ اسے پڑھ سکتا ہے نہ کمپوز کر سکتا ہے۔ میں چوں کہ اس کام کی تکمیل کا دل میں عزم کر چکا تھا، اس لیے ۳۳ہزار روپے خرچ کر کے اپنا کمپیوٹر اور پرنٹر خریدا اور اپنے بھتیجے لقمان سعید سے کمپوز کرانا شروع کیا۔ وہ اس وقت کالج کا طالب علم تھا۔ کٹے پھٹے مسودے کی وجہ سے وہ بھی بہت گھبرایا۔ مجھے بھی سخت پریشانی ہوئی اور بار بار ذہن میں آیا کہ یہ مرکزی جمعیت کا کام ہے، اسے ہی کرنا چاہیے تھا، مجھے اتنی رقم خرچ کرنے اور اپنے تصنیفی کام سے (جسے اﷲ نے میری روزی کا ذریعہ بنایا ہے) وقت نکال کر اس مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی؟
پھر خیال گزرا کہ چند روز کی تکلیف ہے، اسے برداشت کرنا اور کام مکمل کرنا چاہیے۔ جمعیت والے ملک کی سیاسی گھتیاں سلجھانے میں مصروف ہیں ۔ انھوں نے