کتاب: تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی - صفحہ 26
غزنوی نے بات کی۔ میں بھی ان کے مکان پر مولانا کے ساتھ گیا تھا، لیکن زمین کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ اس وقت جماعت کے لیے اس کا ادا کرنا مشکل تھا۔ فیصل آباد کے دو بھائیوں کریم بخش اور امام الدین نے مولانا عبدالواحد مرحوم سے اپنی پونے دو ایکڑز زمین فی سبیل اﷲ وقف کرنے کی بات کی۔ یہ بات مولانا داود غزنوی اور جماعت کے سرکردہ حضرات کے علم میں لائی گئی تو وہاں جامعہ سلفیہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا سنگِ بنیاد ۴؍ اپریل ۱۹۵۵ء کو مولانا داود غزنوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تجویز سے لائل پور شہر اور ضلع کے تین بزرگانِ کرام نے رکھا، وہ تھے: حکیم نور الدین، میاں محمد باقر اور صوفی عبداﷲ۔ اس وقت جماعت میں بڑا جذبہ اور جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ جامعہ کے لیے پہلی رقم کس نے دی اور کتنی دی؟ اینٹیں کن کن صاحبان نے دیں اور کتنی دیں ؟ سیمنٹ کن لوگوں نے دیا؟ جامعہ کی تعمیر کمیٹی کے ارکان کون کون بزرگ تھے؟ اس قسم کی سب باتیں میں نے پوری تفصیل سے اخبار ’’الاعتصام‘‘ میں لکھیں ۔ فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ جلد از جلد چند کمرے تعمیر ہو جائیں ، تاکہ جامعہ میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے، لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۱؍ جون ۱۹۵۶ء کو جمعرات کے روز جماعت کے اچھے خاصے اجتماع میں دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں عارضی طور پر جامعہ سلفیہ کی تدریس کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر مولانا غزنوی نے کیا تقریر کی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی نے کیا ارشاد فرمایا؟ لاہور میں جامعہ کے اولین اساتذہ اور اولین طلبا کون کون حضرات تھے اور طلبا کے قیام و طعام کا کیا انتظام تھا؟ سب کچھ اخبار میں آیا۔ پھر جامعہ سلفیہ لائل پور (فیصل آباد) میں منتقل ہوا، اس کی تفصیل بھی بیان کی گئی۔