کتاب: دبستان حدیث - صفحہ 671
پر عمل کرنا جزوِ نماز ہے۔فاتحہ خلف الامام کےبغیر نماز نہیں ہوتی، اس کاہر نماز میں امام کی اقتداء میں پڑھناضروری ہے۔پھر آمین بالجہر اور رفع الیدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ عمل ہے۔جو شخص اسے ترک کرتا ہے وہ تارکِ سنت ہے۔ 4۔ پروفیسرمحمداکرم نسیم ججہ کے علاقے میں مرزائی اچھی خاصی تعداد میں آباد ہیں۔مرزائیوں سے ان کے مناظروں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور وفات مسیح اورحیات مسیح وغیرہ موضوعات پر بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ انھوں نے مرزائیت سے متعلق لٹریچر کا بہت مطالعہ کیا ہے اور ”حیاتِ مسیح اور حیات ِ مرزا“ کے نام سے کتاب لکھی ہے، جس کے مندرجات سے اس علاقے کے پڑھے لکھے مرزائی بڑےمتاثر ہوئے اور مرزائیت سے تائب ہوکر انھوں نےاسلام قبول کیا۔ 5۔مرزا غلام احمدقادیانی کے عقائد کے متعلق مرزائیوں سے ان کا تحریری مناظرہ ہوا تھا جو کتابی صورت میں چھپا۔ 6۔ایک کتاب”علم غیب اور مختارِ کل“ کے نام سے چھپی۔ ان تصنیفی خدمات کے علاوہ تقریروخطابت کی صورت میں بھی ان کی تبلیغی کوششیں جاری ہیں۔1983ء؁ سے رسول پارک(اچھرہ لاہور) کی جامع مسجد محمدی اہلحدیث میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں۔اس کے لیے وہ ہر جمعے کو اپنے گاؤں(موہریکے ججہ) سے لاہور تشریف لاتے ہیں۔چھ سات سال سے اپنے ایک مخلص دوست محمد اسلم صاحب کے تعاون سے ایک جامع مسجد میں ہر منگل کو نماز مغرب کےبعد نمازِ عشاء تک قرآن مجید کا درس دیتے ہیں۔اس درس میں بہت سے لوگ شامل ہوتے اور استفادہ کرتے ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ محمداکرم نسیم ججہ کو قرآن وسنت کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے۔