کتاب: دبستان حدیث - صفحہ 670
1968ءمیں انھوں نے پرائیویٹ طور سے ایف۔اے کیا اور ایک پرائیویٹ اسلامیہ ہائی سکول میں ٹیچر مقرر کر لیے گئے۔ پھر 1982ءمیں پرائیویٹ امتحان دےکرفرسٹ ڈویژن میں بی اے پاس کیا، اس کے بعد 1983ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ آئی، ای، آر میں داخلہ لیا اور 1985ء میں ایم اے ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں پرائیویٹ امتحان دے کر ایم اے اسلامیات کیا اور 1987ء میں بطور سبجیکٹ موضع بوسال (ضلع گجرات)میں تقرری ہوئی۔وہاں سے جلد ہی تبادلہ کراکے پسرور میں ٹیچر ٹریننگ کالج میں تدریسی فرائض سر انجام دینے لگے۔ پھر چند ماہ بعد اسلامیات کے لیکچرار کی حیثیت سے گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور میں پڑھانا شروع کیا۔
1976ءمیں جب مولانا کوثر نیازی مرحوم پاکستان کے وزیر مذہبی امور تھے، محمد اکرم ججہ کو سرکاری سکیم کے تحت حج بیت اللہ کی سعادت ھاصل ہوئی۔ یہ حج انھوں نے بحری جہاز کے ذریعے کیا تھا۔ 2000ءمیں ان کو مسقط میں مقیم پاکستانی دوستوں نے تبلیغ دین کے لیے ویزا بھیج کر اپنے ہاں بلایا تو وہاں سے بذریعہ روڈ حج بیت اللہ کیا۔2006ء میں تیسرا حج بائی ائیر کیا۔
اب ان کے سلسلہ تصنیف وتالیف کی طرف آئیے۔
کالج کی تدریس کے زمانے ہی میں محمد اکرم ججہ نے اپنے مسلک کی دعوت وتبلیغ کا سلسلہ شروع کردیا تھا، جس سے طلبہ بہت متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں نوجوان کتاب وسنت کے متبع اور داعی ہوگئے۔تصنیف وتالیف کے کام کا آغاز بھی اسی دور میں کردیا تھا۔
1۔پہلی کتاب”تفہیم توحید“ لکھی، جس میں شرک وبدعت اور غیر اسلامی رسوم ورواج کی کتاب وسنت کی روشنی میں تردید کی گئی ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے بہت لوگ راہِ ہدایت پر گامزن ہوئے اور اپنی زندگیوں کو احکام دین کے سانچے میں ڈھالا۔
2۔اس کے بعد”تفہیم سنت“ کے نام سے کتاب تصنیف کی جو پانچ سوصفحات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں حدیث وسنت کے بارے میں بہت سی اہم چیزیں جمع کردی گئی ہیں مثلاًحدیث کا مفہوم، حدیث کی حفاظت، حدیث کی جمع وتدوین، فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخ، منکرین حدیث کے اعتراضات اور ان کے جوابات، فتنۂ وضع حدیث، علم اسماء الرجال، سنت کا مفہوم اور اس کی تعریف، سنت اور حکمت، وحی جلی یا وحی متلو، بدعت کی حقیقت، بدعت کی قباحتیں، روافض اور وضع حدیث، سواد اعظم، تقلید شخصی وغیرہ کہتے ہی ضروری اور بنیادی مباحث اس کتاب کے بہترین اسلوب میں آگئے ہیں۔
3۔ایک اور کتاب انھوں نے”نماز کے تین اہم اختلافی مسائل“ لکھی۔اس کتاب میں رفع الیدین، آمین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام کے بارے میں دلائل سے ثابت کیاہے کہ نماز میں اس