کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 74
اور نہ ہی دلائل کو متعدی [1] کرسکتے ہیں۔
قولہ: ولا نعلم کیف کنہ ذالک…
یعنی اسماء و صفات کے صرف معنی کو تو جانتے اور اسی کا اثبات کرتے ہیں لیکن ان کی کیفیت سے واقف نہیں۔ اسی لیے جب ایک شخص نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ قرآن میں ہے:
﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾ (طٰہٰ:۵)
’’وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔‘‘
اللہ تعالیٰ عرش پر کیسے مستوی ہے؟
یعنی وہ استواء کی کیفیت کے بارہ میں سوال کر رہا تھا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ نے سرجھکالیا، پھر سر اٹھایا تو آپ اللہ تعالیٰ کے حیاء کی وجہ سے پسینہ میں غرق تھے اور فرمایا:
’’الْاِسْتوائُ معلومٌ، والکیفُ مجہولٌ، وَالإیمانُ بہِ واجبٌ، وَالسؤالُ عَنہ بدعۃٌ، وما أَراکَ إلّا رجُلَ سُوئٍ۔‘‘
’’استواء معلوم جبکہ اس کی کیفیت نامعلوم ہے، لیکن اس پر ایمان لانا واجب اور اس کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے۔ مجھے تُو بہت برا آدمی معلوم ہوتا ہے۔‘‘
پھر آپ رحمہ اللہ نے لوگوں کو حکم دیا اور اس کو مجلس سے نکال دیا گیا۔ [2] چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہیں اگرچہ ہمیں اس کی کیفیت کا علم نہیں۔ کیونکہ اللہ کا رسول، اللہ ہی کا پیغام پہنچاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا ﴾ (الحشر:۷)
[1] یعنی کسی خاص دلیل کو دوسرے مسائل پر دلیل نہیں بنا سکتے۔ (مترجم)
[2] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔