کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 446
’’الزاد‘‘ کے متن میں یہ بات مذکور ہے۔
سوال : جناب فضیلۃ الشیخ عقیدے کی بہت سی کتب مثلاً طحاویہ، لمعۃ الاعتقاد وغیرہ میں یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ ’’ہم کسی گناہ کی وجہ سے کسی کو اس وقت تک کافر قرار نہیں دیں گے جب تک وہ اسے حلال نہ سمجھے۔ مرجئہ اس جملے سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ کفر کا تعلق عمل کے ساتھ نہیں بلکہ یہ صرف عقیدے کے ساتھ متعلق ہے۔ امید ہے آپ اس جملے کا صحیح مفہوم بیان کریں گے۔
جواب : اس جملے میں عمل کو اس بات کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے کہ وہ عمل شرک سے کمتر ہو۔ ورنہ ایسا عمل جس میں شرک پایا جائے اس کے مرتکب پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا۔ مثلاً بتوں کو سجدہ کرنے والا اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والا کافر ہے۔ کیونکہ یہ کفریہ اعمال ہیں۔ اسی طرح تارک نماز بھی کافر ہے خواہ وہ نماز کے وجوب کا انکار نہ بھی کرتا ہو۔ صحیح احادیث اور دلائل سے ایسے شخص کا کفر ثابت ہے۔
ہٰذَا مَا عِنْدَنَا وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔