کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 445
ہوچکی ہے۔
سوال : کیا ہم ان لوگوں کو جہنمی نہیں کہہ سکتے جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن شرک بھی کرتے ہیں؟
جواب : ہم مشرکوں پر جہنمی ہونے کا فتویٰ لگا سکتے ہیں لیکن ہمیں ان کی وفات کے وقت کی حالت کا یقینی طور پر علم نہیں۔ لہٰذا ہم کہیں گے؛ تمہارا یہ کام کفریہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکال دیتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے تمہیں کافر سمجھا جائے گا جیسا کہ صحیح حدیث اس پر دال ہے۔ البتہ ہم یہ فتویٰ نہیں لگا سکتے کہ وہ جہنمی ہیں۔ کیونکہ اس فتوے کا تعلق انجام کے ساتھ ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس حالت میں مریں گے۔ انفرادی اعتبار سے یہی حکم ہے لیکن عمومی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ کافر ہے۔ اور جو شرک و کفر کی حالت میں ہی فوت ہوگیا وہ جہنمی ہے۔ عمومی اعتبار سے فتویٰ دینے کے جواز میں کوئی شک نہیں۔ گویا عمومی اور خصوصی حکم لگانے کے درمیان فرق ہے۔
سوال : فضیلۃ الشیخ کیا فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا جواز صرف حکمرانوں کے ساتھ خاص ہے یا ہر فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے خواہ وہ حکمران نہ بھی ہو؟
جواب : حکمران کے پیچھے نماز پڑھنے کے جواز پر تو امت کا اجماع ہے اور یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ لیکن حکمرانوں کے علاوہ دوسرے فاسق لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ حنابلہ کا مؤقف یہ ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔