کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 444
کی دلیل ثابت نہیں ہم اس آواز کے سماع کا اثبات نہیں کرتے۔ کیونکہ غیبی امور میں صرف نقل صحیح پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا جس آواز کے بارے میں دلیل مل جائے کہ میّت اسے سنتی ہے تو ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔ سوال : جناب شیخ! اللہ تعالیٰ میّت کے گھر والوں کے اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے میّت کو کیوں عذاب دیتے ہیں؟ حالانکہ اس کے گھر والوں کے فعل کا اس پر کوئی گناہ نہیں؟ امید ہے آپ وضاحت فرمائیں گے۔ جواب : کیونکہ اس نوحہ کا سبب میّت خود ہوتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں: اس حدیث کو اس صورت حال پر محمول کیا جائے گا جب اس نے ان کو اپنے اوپر نوحہ کرنے کی وصیت کی ہو۔ یا اسے علم ہو کہ مرنے کے بعد لوگ اس پر نوحہ کریں گے لیکن اس نے انہیں منع نہیں کیا۔ بلکہ انہیں چھوڑ دیا اور نصیحت نہیں کی۔ اس کو اس وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے گھر والوں کو منع نہیں کیا اور ان کی تردید نہیں کی۔ بہرحال جو حدیث میں آیا ہے کہ میّت کو اس پر کئے جانے والے نوحہ کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ہم اسے صحیح مانتے ہیں۔ البتہ اس کو عذاب دینے کی کیفیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ سوال : جناب شیخ! اس شخص کا کیا حکم ہے جو اولیاء کو مدد کے لیے پکارتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہ شرک ہے؟ یاد رہے کہ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتا ہے جہاں شرک کی دعوت دینے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حق کی دعوت دینے والے بھی موجود ہیں اگرچہ وہ تھوڑی تعداد میں ہیں۔ جواب : ایسے شخص کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس کو دعوت پہنچ چکی ہے اور اس پر حجت قائم ہوچکی ہے۔ اگر وہ مسلمانوں کے ملک میں رہتا ہے، قرآن سنتا ہے، احادیث سنتا ہے، اللہ کی طرف دعوت دینے والوں اور حق کے داعیوں کی پکار سنتا ہے لیکن اس کے باوجود اپنے شرک پر قائم رہتا ہے اور اس پر اصرار کرتا ہے تو یہ معذور نہیں۔ کیونکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہے۔ سوال : جب مسلمان کسی ایسے عمل کا ارتکاب کر بیٹھے جو اسلام سے خارج کردیتا ہے تو کیا اس کے سامنے اس جرم کی سنگینی واضح کیے بغیر براہ راست ہم اس پر کفر کا فتویٰ لگا سکتے ہیں۔ یا اس پر حجت قائم کرنے تک ہم اس کے کفر کے بارے میں توقف کریں؟ جواب :اگر کوئی ایسا جاہل ہو تو اس کے خلاف اس وقت تک فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا جب تک اس کو بتا نہ دیا جائے۔ اگر وہ پھر بھی اپنے عمل پر قائم رہے تو اسے مرتد قرار دیا جائے گا اور اگر کسی کو اس کا علم بھی ہو تو اس کو مرتد کہا جاسکتا ہے۔ اسے توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی کیونکہ اس پر حجت قائم