کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 443
ضروری ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔ کیونکہ یہ بہت خطرناک بات ہے۔ بالخصوص جبکہ یہ طلباء کو پڑھائے جانے والے نصاب میں شامل ہے۔
سوال : جناب شیخ! اللہ تعالیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائیں گے ’’جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے اسے آگ سے نکال لیں‘‘[1] تو جو شخص نماز کو ترک کرتا ہے وہ جہنم میں ہمیشہ کیسے رہ سکتا ہے۔ جبکہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے، نماز کی فرضیت کو جانتا ہے اور اس کا عقیدہ بھی اسلاف والا ہے۔
جواب : اگر اس کا عقیدہ اسلاف والا ہوتا تو وہ نماز کی حفاظت کرتا۔ اسلاف نماز کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ لہٰذا جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ عقیدۂ سلف پر نہیں بلکہ وہ کفر اکبر کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ جیسا کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث مروی ہیں۔ چنانچہ جب کوئی جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے تو وہ عقیدہ سلف سے خارج ہوجاتا ہے اور دائرۂ ایمان سے نکل جاتا ہے۔
سوال : جناب شیخ! کیا زمین کے ساکن ہونے اور متحرک نہ ہونے کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کی مخالفت کرنے والے کو گمراہ، بدعتی یا کافر کہا جاسکتا ہے۔ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو عصر حاضر کے ماہرین فلکیات کے اقوال کو دلیل بناتا اور ان پر اعتماد کرتا ہے؟
جواب : جو قرآن و سنت کی مخالفت کرے اسے اس وجہ سے گمراہ قرار دیا جائے گا۔ اور اگر وہ عمداً ایسا کرے اور یہ کہے کہ جو کچھ قرآن و سنت میں مذکور ہے خلاف عقل اور غیر صحیح ہے۔ تو ہم کہتے ہیں وہ کافر ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو جھٹلاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی آیات کو نہ جھٹلائے محض ان کی تاویل کرتا ہو تو ہم اسے خطا کار اور ظالم کہیں گے۔
سوال : جناب شیخ! کیا میّت قبر میں جوتوں کی آواز کے علاوہ بھی کوئی آواز مثلاً لوگوں کی گفتگو سنتی ہے؟
جواب : میّت صرف وہی آواز سنتی ہے جس کے سماع کی دلیل ملتی ہے۔ لیکن جس آواز کو سننے
[1] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔