کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 442
مختار ہے۔ بلکہ ایک اعتبار سے مجبور ہے اور ایک اعتبار سے مختار۔ یہ تفصیل ضروری ہے۔ سوال : جناب شیخ! کیا محض دل کے عمل کے ساتھ شہادتین کا اقرار کافی ہے؟ کیونکہ یہ ایک عمل ہے جو کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ بالخصوص جب کوئی صدقات و زکوٰۃ کا اہتمام کرتا ہو، روزے رکھتا ہو، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے ڈرتا بھی ہو۔ لیکن سستی یا جہالت کی وجہ سے نماز ترک کرتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ جواب : یہ مرجئہ کا قول ہے کہ ایمان اقرار باللسان اور اعتقاد بالقلب کا نام ہے۔ اعمال اس میں داخل نہیں۔ جبکہ جمہور اہل سنت کا قول یہ ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور ان کو ترک کرنے سے یا تو ایمان زائل ہوجاتا ہے جیسا کہ نماز کو چھوڑنے سے۔ یا ایمان کم ہوجاتا ہے۔ سوال : جناب شیخ! میں مرحلہ ثانویہ (میٹرک) کا طالب علم ہوں۔ اس میں ہم ادبی موضوعات پڑھتے ہیں۔ کاتب کہتا ہے جو شخص طاقتور نہیں، پختہ ارادے اور عزم کا مالک نہیں وہ اسلام کے بغیر مسلمان ہے۔ اور دوسرے مقام پر وہ کہتا ہے: ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر معاشرے میں انسان ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ہے۔ کدھر جارہا ہے اور اس نے کیسا پایا ہے؟ اور وہ کہتا ہے: ایمان باللہ کے مختلف راستے ہیں۔ بعض لوگ عقل کے ذریعے اس تک پہنچتے ہیں، بعض لوگ موروثی طور پر۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ فرمائیں: کیا یہ اقوال صحیح ہیں۔ کیونکہ پڑھانے والے استاد صاحب کہتے ہیں کہ یہ ادبی تعبیرات ہیں۔ جواب : یہ کفریہ تعبیرات ہیں، ادبی نہیں۔ اس کا یہ کہنا کہ میں نہیں جانتا میں کہاں سے آیا ہوں؟ اور کہاں جاؤں گا؟ یہ شک اور حیرت کا اظہار ہے اور یہ کفر ہے (اللہ کی پناہ)۔ جی ہاں! ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کہاں جانے والے ہیں۔ اور ہم خیر اور شر کے راستوں کو پہچانتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے یہ بیان فرمادیے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ (شریعت) کا انکار ہے اور ایمان موروثی طور پر نہیں ملتا۔ بلکہ کتاب و سنت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسی باتوں پر خاموش رہنا جائز نہیں بلکہ ان کو لکھ کر تعلیم کے ذمہ داران تک پہنچانا