کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 441
جواب : میرے بھائی! آدم علیہ السلام نے قضاء و قدر کو گناہ کے لیے دلیل نہیں بنایا تھا۔ بلکہ مصیبت کے لیے دلیل بنایا تھا۔ اور وہ ہے جنت سے نکلنا۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا تھا: تو نے ہمیں جنت سے نکالا ہے۔[1]
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا تھا کہ تو نے درخت کا پھل کیوں کھایا؟ بلکہ یہ کہا تھا کہ ’’تو نے ہمیں جنت سے نکالا‘‘ اور یہ ایک مصیبت ہے۔ گویا حضرت آدم علیہ السلام نے مصیبت کے لیے قضاء و قدر کو دلیل بنایا۔ اور علماء کا کہنا ہے کہ قضاء و قدر کو مصیبت کی دلیل بنایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ بندے کو مطیع رہنا چاہیے، ثواب کی امید رکھنی چاہیے اور اللہ سے توبہ کرنی چاہیے۔ لیکن اس کو عیوب اور گناہوں کی صحبت نہیں بنایا جاسکتا۔
سوال : جناب شیخ! کیا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ عمل کو ایمان میں داخل نہیں کرتے اور کیا انہیں مرجئہ فقہاء میں سے شمار کیا جائے گا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ہم ان کی طرف سے عذر کیوں پیش کرتے ہیں؟
جواب : جی ہاں! ابوحنیفہ اور ان کے استاد حماد بن ابی سلیمان دونوں اسی قول کے قائل ہیں کہ ایمان زبان سے اقرار اور دل کے عقیدے کا نام ہے۔ اعمال جوارح اس میں داخل نہیں اور بلاشبہ یہ ارجاء ہے۔ اسی لیے لوگ انہیں مرجئہ فقہاء اور مرجئہ اہل سنت کا نام دیتے ہیں۔ وہ اہل سنت میں سے ہیں لیکن ان سے یہ چھوٹی سی غلطی ہوگئی۔ بلاشبہ یہ غلطی ہے اور ہم کسی کی بھی غلطی کو قبول نہیں کرتے۔ نہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اور نہ ہی کسی اور کی۔ کیونکہ ہمارا ہدف صحیح اور حق بات تک پہنچنا ہے۔ اس غلطی سے امام ابوحنیفہ کی عزت ہمارے نزدیک کم نہیں ہوتی۔
سوال : جناب شیخ! کیا انسان کو مجبور سمجھا جائے یا مختار یا دونوں؟
جواب : اس اعتبار سے اسے مجبور سمجھا جاتا ہے کہ وہ امراض و مصائب کا شکار ہوتا ہے جس میں اس کا اختیار نہیں۔ اپنے افعال و تصرفات اور ارادے کے اعتبار سے اسے مختار سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو کام کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ لہٰذا نہ تو وہ محض مجبور اور نہ ہی محض
[1] بخاری (۶۶۱۴)، مسلم (۲۶۵۲/۱۳) راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔