کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 329
کتاب اور دوسری میری سنت ہے۔‘‘[1]
لہٰذا رسالت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و شریعت قیامت تک باقی اور قائم رہے گی۔ البتہ آپ کے بعد دین کی تجدید کرنے والے اہل علم آتے رہیں گے جو لوگوں کے سامنے شریعت کی وضاحت کرتے رہیں گے اور لوگوں کو ان چیزوں کی تعلیم دیتے رہیں گے جن سے لوگ جاہل ہوں گے۔ جیسا کہ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِہٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَہَا دِیْنَہَا۔)) [2]
’’بے شک اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو کھڑا کرتے رہیں گے جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘
نیز فرمایا:
((إِنَّمَا الْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ۔)) [3]
’’بے شک صرف علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘
چنانچہ اس امت کے علماء شریعت کی وضاحت و بیان اور لوگوں کی رہنمائی کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہی قرآن میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے بارے میں فرماتے ہیں:
﴿وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ﴾
’’وہ اللہ کا رسول اورتمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہے۔‘‘
[1] ابن عبد البر نے استذکار (۹/۵۵۶) اور حاکم نے مستدرک (۱/۱۷۲) (۳۱۹) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ ایسی ہی حدیث حاکم نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کی ہے۔
[2] أخرجہ أبوداؤد (۴۲۹۱) من حدیث أبی ہریرۃ، وإسنادہ صحیح، وانظر: جامع الأصول ((۱۱/ ۳۲۰۔ ۳۲۴)
[3] أحمد فی المسند (۳۶۶/ ۴۵۔۴۶) (۲۱۷۱۵)، وأبوداؤد (۳۶۴۱)، وابن ماجہ (۲۲۳)، والترمذی (۲۲۱۹)، وہو حدیث صحیح۔