کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 313
ہوئے۔‘‘ تشریح…: (۱) اس بات سے معتزلہ کا ردّ مقصود ہے کہ وہ حقیقی ترازو ہوگا جس کے دو پلڑے اور زبان ہوگی۔ (۲)… امّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ’’کیا آپ قیامت کے دن اپنے اہل بیت (ازواج مطہرات) والوں کو یاد رکھیں گے۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَمَّا فِيْ ثَلَاثَۃِ مَوَاضِعَ، فَلَا أَحَدٌ یَذْکُرُ أَحَدًا: عِنْدَ وَزْنِ الْأَعْمَالِ؛ حَتَّی یَعْلَمَ ہَلْ تَرْجِحُ حَسَنَاتُہُ أَوْ سَیِّئَاتُہٗ عِنْدَ تَطَایُرِ الصُّحُفِ؛ حَتَّی یَعْلَمَ ہَلْ یُعْطٰی صَحِیْفَتُہٗ بِیَمِیْنِہٖ أَوْ بِشِمَالِہٖ۔ عَلَی الصِّرَاطِ۔)) ’’لیکن تین مواقع پر کوئی کسی کو یا دنہیں رکھے گا۔ اعمال کے وزن کے وقت حتیٰ کہ اسے علم ہوجائے کہ اس کی نیکیاں بھاری ہیں یا گناہ۔ دوسرا موقعہ صحیفوں کی تقسیم کے وقت حتیٰ کہ اسے علم ہوجائے کہ اس کا صحیفہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں میں۔ اور تیسرا مقام پل صراط ہے۔‘‘[1] یعنی پل صراط سے گزرتے وقت حتیٰ کہ اسے علم ہوجائے کہ وہ نجات پائے گا یا نہیں۔ *****
[1] اسے احمد رحمہ اللہ نے مسند میں (۴۱/۲۲۵) (۲۴۶۹۶)، ابوداؤد (۴۷۵۵) اور حاکم (۴/۶۲۲) (۸۷۲۲) نے بیان کیا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اگر اس میں حسن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ارسال نہ ہو تو یہ شیخین کی شرط پر ہے۔ اگرچہ صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ حسن رحمہ اللہ بچپن میں سیّدہ عائشہ اور اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر جایا کرتے تھے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی حاکم کی موافقت کی ہے۔