کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 294
’’چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔‘‘[1] اس میں ہمارا مقصود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عذاب ایک حقیقت ہے اور پیش آکر رہتا ہے۔ مومن اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ عذاب قبر کے کچھ اسباب ہیں حتیٰ کہ بعض اہل ایمان کو بھی ان اسباب کی وجہ سے قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ ان میں غیبت ،چغلی اور پیشاب سے نہ بچنا ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ((إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِيْ کَبِیْرٍ، أَلَا إِنَّہٗ لَکَبِیْرٌ، أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَبْرِیُٔ مِنْ بَوْلِہٖ، وَأَمَّا الْاٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِيْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) ’’بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور انہیں (بظاہر) کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں دیا جارہا۔ لیکن یاد رکھو (درحقیقت) یہ بڑے گناہ ہیں۔ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا جبکہ دوسرا چغل خور تھا۔‘‘[2] یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مومن کو بھی ان گناہوں کے سبب عذاب قبر ہوتا ہے جن کا وہ دنیا میں ارتکاب کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ فِيْ قَبْرِہٖ بِمَا نِیْحَ عَلَیْہِ۔)) ’’بے شک میّت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘[3]
[1] مسند احمد (۱۲/۱۷۶۔۱۷۷)، (۷۲۳۷)، مسلم (۵۸۸)۔ ابوداؤد (۹۸۳)۔ نسائی (۳/۵۸)، (۱۳۰۹) راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [2] بخاری (۶۰۵۵)، مسلم (۲۹۲)، راوی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ [3] یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ بخاری (۱۲۹۲)، مسلم (۹۲۹/۱۷)