کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 237
قبولِ حق کی توفیق دینا چاہتے ہیں تو اس میں اس کی اہلیت بھی پیدا کردیتے ہیں۔ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں، وہ حق کو قبول کرلیتا ہے، اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور اس کے لیے کشادہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہ اہلیت اسی کو عطا کرتے ہیں جسے ہدایت کے قابل اور اس کو قبول کرنے والا سمجھتے ہیں۔ اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے عدل کی وجہ سے گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ ہدایت کے قابل نہیں ہے، اس میں ہدایت کی قابلیت نہیں رکھتے اور اس کے سینے کو کھولنے کی بجائے تنگ کردیتے ہیں۔ چنانچہ وہ ہدایت کو قبول نہیں کرتا۔
﴿وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ ﴾ (الانعام:۱۲۵)
’’اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘
ایک قراء ت میں یوں ہے:
﴿صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرِجًا ﴾[1]
یعنی وہ حق کو قبول نہیں کرتا، اس پر مطمئن نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا شخص جب حق کو سنتا ہے تو اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے، سمٹ جاتا ہے اور اعراض کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاِِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ وَاِِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ اِِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ،﴾ (الزمر:۴۵)
’’اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
[1] یہ نافع اور ابوبکر کی قراء ت ہے ’’حَرِجًا‘‘ را کے کسرہ کے ساتھ۔ ان دونوں نے اسے اسم فاعل بنایا ہے۔ اس کا معنی بھی تنگی ہوتا ہے۔ لفظ کی تبدیلی کی وجہ سے معنی میں تکرار اور حسن پیدا ہوگیا ہے۔ (الکشف عن وجوہ القرائات، لمکی (۱/۴۵۰)۔