کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 221
سے محروم رکھیں گے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دوست اس کا دیدار کریں گے۔ ورنہ اگر مومنوں اور کفار سب کو محروم رکھا گیا تو ان میں فرق کیا رہ جائے گا؟‘‘
*****
وَقَالَ النَّبِیُّ صلي للّٰه عليه وسلم ((إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِ۔)) [1] (۱) حدیث صحیح متفق علیہ۔
ترجمہ…: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک تم (قیامت کے دن) اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھتے ہو۔ اس کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہوگی۔ یہ صحیح اور متفق علیہ حدیث ہے۔
تشریح…: (۱) لَا تَضَامُوْنَ کا معنی یہ ہے کہ تم ایک ہی جگہ پر اس طرح اکٹھے نہیں ہوگے جس طرح لوگ کسی ایک چیز کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور اس سے بھیڑ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے زیادہ واضح ہوگا۔ لہٰذا لوگوں کو اس کے دیدار کے لیے جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر کوئی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے بھی اس کو دیکھ لے گا۔
*****
وَہٰذَا تَشْبِیْہٌ لِلرُّؤْیَۃِ بِالرُّؤْیَۃِ (۱) لَا لِلْمَرْئِیِّ بِالْمَرْئِيِّ فَإِنَّ اللّٰہَ لَاشَبِیْہٌ لَہُ وَلَا نَظِیْرٌ۔ (۲)
ترجمہ…: یہ رؤیت کی رؤیت کے ساتھ تشبیہ ہے نہ کہ مرئی کی مرئی کے ساتھ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مشابہ اور مثل کوئی نہیں۔
تشریح…: (۱) یہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی تشبیہ شمس و قمر کے دیدار کے ساتھ ہے نہ کہ سورج اور چاند کی تشبیہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔
[1] اسے بخاری رحمہ اللہ (۵۵۴) اور مسلم (۶۳۳) نے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے۔ دیکھئے: جامع الأصول (۱۰/۵۵۷۔ ۵۵۸) (۸۱۲۵)۔