کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 207
کا اہتمام کرنا واجب ہے۔ قرآن کو گنگنا کر خوبصورت آواز میں پڑھنا اور سامعین کو مسحور کرنا مقصود نہیں۔ مطلوب تو عمل، خشیت اور خوف الٰہی ہے۔
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ،﴾ (الانفال:۲)
’’(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں۔ اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔‘‘
ایک بندۂ مومن جب تلاوت سنتا ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ خوف الٰہی سے روپڑتا ہے اور قرآن اس پر اثر کرتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
((إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي الصَّلَاۃِ یُسْمَعُ لِصَدْرِہٖ أَزِیْزٌ کَأَزِیْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُکَائِ۔))
’’جب قرآن پڑھتے تو آپ کے سینہ اطہر سے رونے کی وجہ سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز سنائی دیتی تھی۔‘‘[1]
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء کی قراء ت سنی اور وہ درج ذیل آیت تک پہنچے۔
﴿فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا،﴾ (النساء:۴۱)
’’پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔‘‘
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] اسے امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں (۲۶/۲۳۸) (۱۶۳۱۲) اور ابوداؤد نے عبد اللہ بن شخیر سے بیان کیا ہے (۹۰۴)۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ہے۔