کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 202
﴿الٓرٰ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ، اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ،﴾ (یوسف:۱تا۲)
’’الٓرٰ ۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔‘‘
الغرض ان حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر اس کے اعجاز کی طرف اشارہ ہے۔
اسی قول کو اہل علم کی ایک جماعت اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔
*****
وَقَالَ النَّبِیُّ صلي للّٰه عليه وسلم : مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاَعْرَبَہُ، فَلَہُ بِکُلِّ حَرْفٍ مِنْہُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمَنْ قَرَأَہُ وَلَحَنَ فِیْہِ فَلَہُ بِکُلِّ حَرْفٍ حَسَنَۃً۔
ترجمہ…: اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس نے قرآن کریم کو عربی لہجے میں پڑھا، اس کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں اور جس نے اس کو پڑھنے میں غلطی کی اس کے لیے (صرف) ایک نیکی ہے۔[1]
تشریح…: جو شخص قرآن کریم کو غلطی کے بغیر عربی لہجے میں پڑھے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے قرآن یاد ہے اور وہ اس پر توجہ دیتا ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں۔ کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے۔ اس سے قرآن کو اچھی طرح یاد کرنے اور بغیر غلطی کے پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
جو شخص قرآن کو پڑھتا تو ہے لیکن عربی پر اچھی طرح عبور نہ ہونے کی وجہ سے غلطی کرجاتا ہے۔ زبر کی جگہ زیر اور زیر کی جگہ پیش پڑھ دیتا ہے تو اس کو اس کی استطاعت اور محنت کے مطابق اجر ملے گا۔ اس کی غلطی کو معاف کردیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی پوری استطاعت
[1] ابن قدامہ نے اسے مغنی میں (۲/۶) بیان کیا ہے اور اسے ترمذی کی طرف منسوب کیا ہے۔ کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ لیکن ہمارے پاس موجود ترمذی کے نسخوں میں ہمیں یہ حدیث نہیں ملی اور نہ ہی کسی اور حدیث کی کتاب میں۔ لیکن اس حدیث کے مفہوم کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ’’الماہر بالقران مع السفرۃ الکرام البررۃ، والذی یقرأ القراٰن ویتتعتع فیہ وہو علیہ شاق فلہ اجران۔‘‘