کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 163
اللہ کے آگے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جو فرشتہ اپنا سر اٹھاتا ہے وہ جبریل علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی وحی میں سے جو چاہتے ہیں اسے بتاتے ہیں۔ پھر جبریل جب بھی کسی آسمان سے گزرتے ہیں تو اس آسمان کے فرشتے ان سے پوچھتے ہیں ’’اے جبریل! ہمارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟ جبریل فرماتے ہیں: اس نے حق کہا اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے۔‘‘ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی بات کرتے ہیں تو آسمان اس کی ہیبت سے کانپنے اور لرزنے لگتے ہیں، فرشتے مدہوش ہوکر اللہ کے سامنے گرپڑتے ہیں۔ جب وہ ہوش میں آتے ہیں، تو پوچھتے ہیں: ’’اے جبریل! ہمارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ جبریل جواب دیتے ہیں: ’’اس نے حق فرمایا اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے۔‘‘ لہٰذا اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا اثبات ہے اور اس کا بھی اثبات ہے کہ اسے تمام آسمان اور اہل آسمان سنتے ہیں۔ پھر جبریل اسے اللہ تعالیٰ سے لے کر انسانوں میں سے جس پیغمبر تک اللہ نے پہنچانے کا حکم دیا ہوتا ہے اسے پہنچاتے ہیں۔ ***** وَرَوَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُنَیْسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صلي للّٰه عليه وسلم أَنَّہُ قَالَ ’’یَحْشُرُ اللّٰہُ الْخَلَائِقَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرلًا بُہمًا، فَیُنَادِیْہِمْ بِصَوْتٍ یَسْمَعُہُ مَنْ بَعُدَ، کَمَا یَسْمَعُہُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الْمَلِکُ، أَنَا الدّیّانُ‘‘ رَوَاہُ الْأَئِمَّۃُ، وَاسْتَشْہَدَ بِہِ الْبُخَارِیُّ۔‘‘ (۱)[1] ترجمہ…: اور عبد اللہ بن انیس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مخلوق کو ننگے پاؤں، ننگے بدن، غیر مختون اور خالی ہاتھ جمع کریں گے پھر اتنی بلند آواز سے پکار کر کہیں گے: ’’میں ہی بادشاہ ہوں، میں ہی بدلہ دینے
[1] امام احمد رحمہ اللہ نے اسے اپنی مسند میں بیان کیا ہے (۲۵/۴۳۱) (۱۶۰۴۲) بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں (۹۷۰) ذکر کیا ہے اور اپنی صحیح میں حدیث نمبر ۷۸ اور (۷۴۸۱) سے پہلے معلق بیان کیا ہے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ اس کی مکمل تخریج اور تنقید مسند امام احمد میں دیکھیں۔ یہ تخریج فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ کے اشراف میں علماء کی کمیٹی نے کی ہے۔