کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 140
تائید کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے وہ صحیح دلائل زیادہ پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے۔ ***** وَرَوَي اَبُوْدَاؤدَ فِیْ سُنَنِہِ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صلي للّٰه عليه وسلم قَالَ: ’’إِنَّ مَا بَیْنَ سَمَائٍ إِلَی سَمَائٍ مَسِیْرَۃُ کَذَا وَکَذَا۔ وَذَکَرَ الْخَبَرَ إِلَی قَوْلِہِ: وَفَوْقَ ذَالِکَ الْعَرْشُ، وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ فَوْقَ ذَالِکَ۔ (۱)[1] ترجمہ…: اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ: بے شک نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان اتنا اتنا فاصلہ ہے۔‘‘ اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اور اس کے اوپر عرش ہے اور عرش سے اوپر اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ تشریح…: (۱) یہ حدیث شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی کتاب ’’کتاب التوحید‘‘ کے آخر میں بیان ہوئی ہے اور یہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کئی احادیث میں آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے کا ذکر ہے۔ بالتحقیق یہ ۵۰۰ سال کا فاصلہ ہے۔ اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا فاصلہ بھی ۵۰۰ سال بیان ہوا ہے۔ ہر آسمان کی موٹائی ۵۰۰ سال ہے۔ اور آسمانوں سے اوپر ایک سمندر ہے اس کی تہہ سے اس کی اوپر والی سطح تک کا فاصلہ ۵۰۰ برس ہے۔ اس سے اوپر کرسی ہے۔ کرسی کے اوپر اللہ ذوالجلال کا عرش ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام مخلوقات سے بلند ہونے کا اور عرش پر قائم ہونے کا اثبات ہے جیسا کہ اس پر کتاب و سنت کے بہت سے دلائل دلالت کرتے ہیں۔ جو تمام مخلوقات سے بلند اور بڑا ہے۔ مزید برآں اس میں مخلوقات اور اس کائنات کی عظمت اور اس کی وسعت اور عظیم فاصلوں کا ذکر ہے۔
[1] مسند احمد (۳/۲۹۲۔ ۲۹۴)، (۱۷۷۰، ۱۷۷۱)، ابوداؤد (۴۷۲۳۔ ۴۷۲۵)، ترمذی (۳۳۲۰)، ابن ماجہ (۱۹۳) یہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔