کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 133
وَقَوْلُ النَّبِیِّ صلي للّٰه عليه وسلم ((رَبُّنَا اللّٰہُ الَّذِيْ فِی السَّمَآئِ تَقَدّسَ اسْمُکَ)) (۱) وَقَالَ لِلْجَاریۃِ ((أَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ: فِی السَّمَآئِ قَالَ: اَعْتِقْہَا فَاِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔))[1] (۲) ترجمہ…: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اے آسمان میں رہنے والے ہمارے پروردگار اللہ! پاک (مقدس) ہیں تیرے نام‘‘۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی سے پوچھا: ’’اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کردو کیونکہ یہ مومنہ ہے۔‘‘ تشریح…: (۱) جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ آسمان میں ہے، ایسے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے رب کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ آسمان میں ہے۔ چنانچہ ’’رقیہ‘‘ کی (دم والی) مشہور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رَبُّنَا اللّٰہُ الَّذِيْ فِی السَّمَائِ، تَقَدَّسَ اسْمُکَ، أَمْرُکَ فِي السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، کَمَا رَحْمَتُکَ فِی السَّمَائِ، فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِي الْأَرْضِ، اِغْفِرْلَنَا حُوْبَنَا وَخَطَایَانَا، أَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ، أَنْزِلْ رَحْمَۃً مِّنْ رَّحْمَتِکَ، وَشِفَائً مِنْ شِفَائِکَ عَلٰی ہٰذَا الْوَجْعِ۔)) ’’اے ہمارے رب اللہ! جو آسمان و زمین میں رہنے والا ہے، پاک ہیں تیرے نام۔ تیرا حکم آسمان و زمین میں چلتا ہے۔ جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح اسے زمین میں بھی (عام) کردے۔ ہمارے گناہ اور غلطیاں معاف فرما
[1] امام مالک رحمہ اللہ نے اسے مؤطا میں (۲/۲۹۲) (۱۵۳۴)، امام احمد نے مسند میں (۳۹/۱۷۵) (۲۳۷۶۲)، امام مسلم نے (۵۳۷) اور ابوداؤد رحمہم اللہ جمیعاً نے (۹۳۰) بیان کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ سب نے اسے معاویہ بن حکم السلمی سے بیان کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ اللیثی کی روایت کے مطابق عمر بن حکم سے بیان کیا ہے اور یہ تمام اہل علم کے نزدیک وہم ہے۔ کیونکہ صحابہ میں عمر بن حکم نامی کوئی شخص نہیں بلکہ معاویہ بن حکم ہے۔ دیکھئے: جامع الاصول لابن اثیر (۱/۲۲۹۔ ۲۳۰، ۱۲)۔