کتاب: شرح لمعۃ الاعتقاد دائمی عقیدہ - صفحہ 114
وَقَوْلُہُ یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنَ الشَّابّ لَیْسَتْ لَہُ صَبْوَۃٌ۔[1] (۱) ترجمہ…: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ’’تمہارا رب اس نوجوان سے خوش ہوتا ہے جس کے اندر میلان نفس نہ ہو۔‘‘ تشریح…: (۱) اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت تعجب (پسندیدگی) کا اثبات ہے اور نوجوان سے تعجب کرنے کا مطلب اسے پسند کرنا ہے۔ عجب کی تعریف: کسی چیز کا معمول سے ہٹ جانا اور یہی تعجب کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ میں بھی صفت عجب پائی جاتی ہے اور مخلوق میں بھی لیکن خالق و مخلوق کے تعجب میں فرق ہے۔ الصبوۃ: اس سے مراد شہوت اور لذت والی چیزوں کی طرف مائل ہونا ہے۔ کیونکہ عام طور پر نوجوان۔ جوانی اور شہوات کی قوت کی وجہ سے شہوت، غفلت اور فضول کاموں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔اس لیے جب کوئی نوجوان اس معمول سے ہٹا ہوا ہوتا ہے اور نفس پرستی اور شہوت کی طرف میلان سے کنارہ کش ہوکر اپنی جوانی میں اللہ کی عبادت میں مگن رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہے ہی تعجب کی بات۔اور دوسری حدیث میں ہے کہ ان سات لوگوں میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا سایہ نصیب فرمائے گا، ایک وہ نوجوان بھی ہے جو عبادت الٰہی میں شب و روز گزارے۔ ((شَابًا نَشَأَ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ۔))[2]
[1] اسے احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں (۲۸/۶۰۰) (۱۷۳۷۱) اور قضاعی نے مسند شہاب میں (۱/۳۳۶، ۵۷۶) میں حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ اس کی مکمل تخریج و تنقید مسند میں دیکھئے۔ اس کے الفاظ ہیں: ’’إن اللہ لیعجب من الشاب لیست لہ صبوۃ۔)) [2] یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے اسے امام بخاری (۶۶۰) اور امام مسلم رحمہما اللہ (۱۰۳۱) نے بیان کیا ہے۔