کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 81
ہے جوسرکے مسمی سے چہرے کو خارج قرار دیتی ہو۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکا قول معروف ہے :(مافوق الذقن من الرأس )یعنی: ٹھوڑی کے اوپر جوحصہ ہے وہ سرمیں سے ہے۔[1]
ابن حزم رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:جس عربی لغت کے ساتھ،ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب فرمایاہے ،اس میں (جلباب)سے مراد وہ چادرہے جو پورے جسم کو ڈھانپ لے،نہ کہ کچھ جسم کو۔[2]
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی نے،کپڑے پہنانے کا تقاضاکیا، تو انہوں نے فرمایا:تمہیں کپڑے لیکر دینے سے مجھے خدشہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے پہنائے ہوئے جلباب کو چھوڑدوگی،اس نے پوچھا : کون سا جلباب ؟فرمایا:تمہاراگھر۔[3]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(جلابیب)وہ اوڑھنی ہے جسے عورت، اپنے سرسے اس طرح لٹکائے کہ آنکھوں کے سوا کوئی چیز ظاہرنہ ہو۔[4]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں نے عبیدہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی:
[قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنّ۰ۭ ]( الاحزاب:۵۹)
انہوں نے اپناکپڑالیکراپنے سراورچہرے کوڈھانپااورایک آنکھ ظاہرکی(یعنی فرمایا کہ یہ جلباب کا معنی اورصورت ہے)[5]
گذشتہ اوراق میں،آیۃ الجلابیب کے تحت،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکاقول گزر چکا ہے، وہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی عورتوں کو،جب بھی وہ کسی کام سے گھروں سے نکلیں،حکم دیا ہے کہ اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ،اپنے سروں کے اوپر سے
[1] أضواء البیان : ۶/۵۹۲-۵۹۳
[2] التفسیر الکبیر: ۵/۳۹۸-۳۹۹